Posts

Showing posts from February, 2022

سوشل میڈیا کو اپنے وطن کے لیئے استعمال کیجئے.

Image
  سوشل میڈیا کو اپنے وطن کے لیئے استعمال کیجئے تحریر: امان الرحمٰن دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔ آج آپ نے کوئی بھی معلومات لینی ہو یا کوئی کتاب ڈاؤن لوڈ کرنی ہو ضروریاتِ زندگی کی تمام تر چیزیں یہ سب انٹرنیٹ پر مل جاتا ہے ۔جہاں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں اِس کے منفی استمعال کا عنصر بھی جنم لے رہا ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں یہ منفی عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ آج ہر دوسرے شخص کے پاس اینڈرائیڈ موبائل فون ہے اور ہر شخص فیسبک اور ٹویٹر انسٹاگرام پر ایکٹو رہتا ہے یا یوں سمجھئے کے ہم نے سوشل میڈیا کو اپنی زندگی کا بہت اہم حصہ تصور کرلیا ہے جس کے بغیر زندگی گُزارنا مشکل ہو جائے گی ۔ لیکن اگر ہماری ایسی عادت بن ہی گئی ہے یا ہم اِس کے بنا رہ نہیں سکتے تو کیوں ناں ہم اِس موبائل کے ساتھ جوڑے سوشل میڈیا کو اپنے ملک اپنے مذہب کے لئے استعمال کریں اور ملک و قوم کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ مُعاشرہ بہتری کی طرف آئے اور آپ کی ایک چھوٹی سی پوسٹ یا تحریرکسی کے دل میں گھر کر جائے، یا آپ ملک دُشمن جھوٹے پروپیگنڈے کو فاش کر دیں اور آپ کے ہم وطن دُشمن کے اِس گھناؤنے ہتھکنڈے ...

بلوچستان اور فاٹا پاک فوج کی انتھک محنت اور پاکستانی معیشت

Image
بلوچستان، فاٹا پاک فوج کی انتھک محنت اور پاکستانی معیشت  تحریر: امان الرحمٰن رقبے کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ قدرتی خوبصورتی بلند پہاڑوں ، چشموں اور معدنیات سے مالا مال فطرت کا تحفہ ہے۔ اس سے متصل خیبر پختونخوا میں فاٹا کا علاقہ ہے۔ بلوچستان میں وزیرستان اور فاٹا دونوں افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدیں مشترک ہیں۔ سوویت یونین اور پھر امریکہ کے ذریعہ افغانستان پر حملے کے نتیجے میں ، افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پاکستان منتقل ہوگئی۔ آج بھی ، پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 300،000 سے زیادہ ہے جو گذشتہ 30 سالوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ ان مہاجرین میں سے زیادہ تر وزیرستان اور فاٹا سے آئے تھے۔ وہ بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے پاکستان آتے جاتے تھے منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ جب پاکستانی عوام اور حکومت افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے تھے ، کچھ مجرم ذہنیت پسند لوگوں نے آزادانہ تحریک کا فائدہ اٹھایا اور تینوں ممالک کے مابین بڑے پیمانے پر اسمگلنگ شروع کردی۔ جنگ سے تباہ حال بے روزگار افغانوں نے بھی منشیات بنانا شروع کردیا ، کچھ مقامی افراد بھی اس میں شامل ہوگئے...